کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ دنیا میں ہر طاعت کرنے والے کو جنت میں اس کے مخصوص دروازے سے بلایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 308
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص (کسی بھی چیز کا جوڑا) اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، تو جنت میں یہ اعلان کیا جاتا ہے: اے اللہ کے بندے! یہ چیز زیادہ بہتر ہے، (قیامت کے دن) جو لوگ اہل نماز ہوں گے، انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو لوگ اہل جہاد ہوں گے۔ انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا، جو لوگ صدقہ کرنے والے ہوں گے۔ انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو لوگ روزہ رکھنے والے ہوں گے، انہیں باب ” ریان “ سے بلایا جائے گا ۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کوئی شخص ایسا بھی ہو سکتا ہے، جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے، تو کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور مجھے امید ہے، تم ان لوگوں میں سے ایک ہو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 308
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2879): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.