کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - برائی کو دیکھنے یا جاننے پر اس سے روکنے کے وصف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 306
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الأَحْمَسِيِّ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلُ الصَّلاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ : الصَّلاةُ قَبْلُ الْخُطْبَةِ ! وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ ، فَقَالَ : تُرِكَ مَا هُنَاكَ أَبَا فُلانٍ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَاكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ " .
طارق بن شہاب احمسی بیان کرتے ہیں: عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز مروان بن حکم نے کیا، تو ایک شخص اس کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: خطبے سے پہلے نماز پڑھی جائے گی؟ اس نے بلند آواز میں یہ بات کہی، تو مروان نے کہا: اے ابوفلاں! یہاں یہ طریقہ ترک کر دیا گیا ہے۔ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے اپنے ذمے لازم چیز کو ادا کر دیا ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب کوئی شخص کوئی منکر دیکھے، تو اسے اپنے ہاتھ کے ذریعے ختم کرے، اگر وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ذریعے کرے، اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے زیادہ کمزور درجہ ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 306
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1034): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.