کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آیات کے متأول (سمجھنے والے) سے تأویل میں خطا ہو سکتی ہے اگرچہ وہ اہلِ فضل و علم میں سے ہو۔
حدیث نمبر: 305
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ ، أن النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا الِلَّهِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 ْ ، إِنَّ النَّاسَ رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ ، يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ الِلَّهِ بِعِقَابٍ " .
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اے لوگو! تم لوگ یہ آیت تلاوت کرتے ہو، اور اس کا اس سے مختلف مفہوم مراد لیتے ہیں، جواللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ “ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” اے لوگو تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے، جب تم ہدایت حاصل کر لو تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) لوگ جب منکر (یعنی گناہ) کو دیکھیں گے اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کریں گے، تو عنقریباللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل کرے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.