کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب منکر اور ظلم ظاہر ہو جائے تو جو لوگ اس کو جانتے ہوں اور اس کے ازالے کی کوشش نہ کریں ان پر عام عذاب کا اندیشہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 304
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : قَرَأَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذِهِ الآيَةَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 ، قَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَضَعُونَ هَذِهِ الآيَةَ عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا ، أَلا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّاسَ رَأَوَا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ : الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ عَمَّهُمُ الِلَّهِ بِعِقَابِهِ " .
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” اے ایمان والو! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے۔ جب تم ہدایت حاصل کر لو، تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ اس آیت کا غلط مفہوم مراد لیتے ہیں۔ خبردار! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بے شک جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں گے اور اس کے ہاتھوں کو نہیں پکڑیں گے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب وہ کسی گناہ کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں، تواللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب نازل کرے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 304
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (4005). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.