کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر حد سے تجاوز نہ ہو تو انسان ہاتھ سے برائی کو روک سکتا ہے بغیر زبان کے۔
حدیث نمبر: 303
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، وَزَحْمَوَيْهِ ، قَالا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : قَعَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ غَفَلَ عَنْهُ ، فَأَلْقَى الرَّجُلُ خَاتَمَهُ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيْنَ خَاتَمُكَ ؟ " قَالَ : أَلْقَيْتُهُ ، قَالَ : " أَظُنُّنَا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ رُبَّمَا أَخْطَأَ عَلَى الزُّهْرِيِّ .
سیدنا ابوثعلبہ خثنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھا اس نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں موجود شاخ اس کے ہاتھ پر ماری (اور اسے انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیا) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس شخص سے ہٹی تو اس نے اپنی انگوٹھی اتار دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو دریافت کیا: تمہاری انگوٹھی کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے وہ اتار دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے، ہم نے تمہیں تکلیف پہنچائی، ہم نے تمہیں نقصان پہنچایا ۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نعمان بن راشد نامی راوی بعض اوقات زہری کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہوئے غلطی کر جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 303
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «آداب الزفاف» (126 - 127). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف لضعف النعمان بن راشد، ذكره يحيى القطان فضعّفه جداً، وقال أحمد: مضطرب الحديث، وقال ابن معين: ضعيف، وقال مرة: ليس بشيء. وضعّفه أيضاً أبو داود والنسائي. وقال البخاري وأبو حاتم: في حديثه وَهْمٌ كثير، وهو في الأصل صدوق. انظر "التهذيب".