کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اللہ کی حدود پر قائم رہنے والے اور اس میں مداہنت کرنے والے کے وصف کو بیان کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 297
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّغْتُ لَهُ سَمْعِي وَقَلْبِي ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَسْمَعَ أَحَدًا عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْمُدَاهِنُ فِي حُدُودِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ قَوْمٍ كَانُوا فِي سَفِينَةٍ فَاقْتَرَعُوا مَنَازِلَهُمْ ، فَصَارَ مَهْرَاقُ الْمَاءِ وَمُخْتَلفُ الْقَوْمِ لِرَجُلٍ ، فَضَجِرَ فَأَخَذَ الْقَدْومَ ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْفَأْسَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ لِلآخَرِ: إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يُغْرِقَنَا وَيَخْرِقُ سَفِينَتَكُمْ ، وَقَالَ الآخَرُ: فَإِنَّمَا يَخْرِقُ مَكَانَهُ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: " إِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ ، وَفَسَدَتْ فَسَدَ لَهَا الْجَسَدُ كُلُّهُ " . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: " الْمُؤْمِنُونَ تَرَاحُمُهُمْ وَلُطْفُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ كَجَسَدِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، اشْتَكَى بَعْضُ جَسَدِهِ أَلِمَ لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ " .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میری سماعت اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ اور مجھے یہ بات پتہ ہے، اب میں اس منبر پر کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سن سکوں گا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ”اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے والے شخص اوراللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کی مثال اس طرح ہے، جیسے کچھ لوگ ایک کشتی میں سوار ہوں، وہ اپنی جگہوں کے بارے میں قرعہ اندازی کر لیں، تو پانی حاصل کرنے کی جگہ اور لوگوں کے گزرنے کی جگہ ایک شخص کے حصے میں آئے، تو وہ غصے میں آ جائے، اور پھاؤڑہ پکڑے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو ان میں سے ایک شخص دوسرے سے یہ کہے: یہ شخص ہمیں ڈبونا چاہتا ہے، اور کشتی کو توڑنا چاہتا ہے، اور دوسرا شخص کہے: اسے کرنے دو، یہ اپنی جگہ کو توڑ رہا ہے ۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بے شک جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہے، تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے، تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ “ راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” آپس میں ایک دوسرے پر رحمت اور لطف کے حوالے سے اہل ایمان کی مثال ایک شخص کے جسم کی مانند ہے، جب جسم کا ایک حصہ بیمار ہو جائے، تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 297
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (69)، «غاية المرام» (20)، «الصحيحة» - أيضا - (1083 و 2526). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط (1) إسناده صحيح على شرط الشيخين. <br> (2) إسناده صحيح على شرط الشيخين. <br> (3) Null