کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ دار الاسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اللہ کے کافر دشمنوں پر نصرت حاصل کرے۔
حدیث نمبر: 290
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَضَرَهُ شَيْءٌ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَا كَلَّمَ أَحَدًا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَصِقْتُ بِالْحُجْرَةِ أَسْمَعُ مَا يَقُولُ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ لَكُمْ : مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ، قَبْلُ أَنْ تَدْعُونِي ، فَلا أُجِيبُكُمْ ، وَتَسْأَلُونِي فَلا أُعْطِيكُمْ ، وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلا أَنْصُرُكُمْ " ، فَمَا زَادَ عَلَيْهِنَّ حَتَّى نَزَلَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کا مزاج ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نے وضو کیا آپ نے کسی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔ پھر باہر تشریف لے گئے۔ میں حجرے کے دروازے) کے پاس ہو گئی، تاکہ میں یہ سنوں کہ آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں: آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے، تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔ اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، تم لوگ مجھ سے کچھ مانگو اور میں تمہیں عطا نہ کروں، تم لوگ مجھ سے مدد، مانگو اور میں تمہاری مدد نہ کروں۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہی کلمات ارشاد فرمائے، اور پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔