کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ امر بالمعروف کرنے والے کو اس پر عمل کرنے والے کا ثواب دیتا ہے، بغیر اس کے اجر میں کمی کے۔
حدیث نمبر: 289
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ ، لَكِنِ ائْتِ فُلانًا " ، قَالَ : فَأَتَى الرَّجُلَ ، فَأَعْطَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ أَوْ عَامِلِهِ " .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ سے مدد طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے، جو میں تمہیں دوں، تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ اس شخص کے پاس آیا اس نے اسے عطیہ دے دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص بھلائی کے بارے میں رہنمائی کرے، تو اس کو اس بھلائی کو کرنے والے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اس پر عمل کرنے والے کی مانند اجر ملتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 289
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1660). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، وسليمان هو الأعمش.