کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے سے بڑے، برابر اور چھوٹے کو دین اور دنیا میں امر بالمعروف کرے، اگر اس کا مقصد نصیحت ہو نہ کہ طعنہ زنی۔
حدیث نمبر: 288
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ هُوَ ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمَّا أَرَادَ هُدَى زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ عَلامَاتَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، إِلا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْبُرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلا حِلْمًا ، فَكُنْتُ أَتَلَطَّفُ لَهُ لأَنْ أُخَالِطَهُ فَأَعْرِفَ حِلْمَهُ وَجَهْلَهُ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُجُرَاتِ ، وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَالْبَدَوِيِّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَرْيَةُ بَنِي فُلانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ ، وَكُنْتُ أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا ، وَقَدْ أَصَابَهُمْ شِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ ، وَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَخْرُجُوا مَنَ الإِسْلامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهُمْ مَنْ يُغِيثُهُمْ بِهِ فَعَلْتَ ، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ جَانِبَهُ ، أُرَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلانٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا ؟ فَقَالَ : " لا ، يَا يَهُودِيُّ ، وَلَكِنْ أَبِيعُكَ تَمْرًا مَعْلُومًا إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا ، وَلا أُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلانٍ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَبَايَعَنِي صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطْلَقْتُ هُمْيَانِي ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجْلِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَأَعْطَاهَا الرَّجُلَ وَقَالَ : " اعْجَلْ عَلَيْهِمْ وأَغِثْهُمْ بِهَا " ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَلَمَّا كَانَ قَبْلُ مَحَلِّ الأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ دَنَا مِنْ جِدَارٍ فَجَلَسَ إِلَيْهِ ، فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَلا تَقْضِينِي يَا مُحَمَّدُ حَقِّي ؟ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكُمْ بَنِي عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بِمَطْلٍ ، وَلَقَدْ كَانَ لِي بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ ، قَالَ : وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ وَقَالَ : أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْمَعُ ، وَتَفْعَلُ بِهِ مَا أَرَى ؟ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، لَوْلا مَا أُحَاِذْرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا عُنُقَكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى عُمَرَ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّا كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ يَا عُمَرُ ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الأَدَاءِ ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التِّبَاعَةِ ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ فَاقْضِهِ حَقَّهُ ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ غَيْرِهِ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ " ، قَالَ زَيْدٌ : فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَقَضَانِي حَقِّي ، وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ ؟ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ ، فَقُلْتُ : أَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : لا ، فَمَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ ، قَالَ : الْحَبْرُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، الْحَبْرُ ، قَالَ : فَمَا دَعَاكَ أَنْ تَقُولَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتَ ، وَتَفْعَلُ بِهِ مَا فَعَلْتَ ، فَقُلْتُ : يَا عُمَرُ كُلُّ عَلامَاتَ النُّبُوَّةِ قَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ إِلا اثْنَتَيْنِ لَمْ أَخْتَبِرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلا يَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلا حِلْمًا ، فَقَدْ اخْتَبَرْتُهُمَا ، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالا صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَإِنَّكَ لا تَسَعُهُمْ كُلَّهُمْ ، قُلْتُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ زَيْدٌ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ ، وَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلا غَيْرَ مُدْبِرٍ رَحِمَ الِلَّهِ زَيْدًا ، قَالَ : فَسَمِعْتُ الْوَلِيدَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي بِهَذَا كُلِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ .
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جباللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت عطا کرنے کا ارادہ کیا، تو زید بن سعنہ نے کہا: نبوت کی جتنی بھی علامات باقی رہ گئی ہیں، وہ سب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پہچان لی ہیں۔ جب میں نے آپ کی زیارت کی صرف دو باتیں باقی رہ گئی ہیں، وہ میں آپ کی شخصیت میں نہیں جان سکا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری اور (برداشت) کا عنصر کتنا ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بد تمیزی کا مظاہرہ کیا جائے، تو آپ زیادہ بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤں، ان کے ساتھ ملتا رہوں تاکہ مجھے آپ کی بردباری کا اندازہ ہو سکے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک شخص جو دیکھنے میں دیہاتی لگ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کر لیا، تواللہ تعالیٰ انہیں زیادہ رزق عطا کرے گا۔ اب انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے، بارش نہیں ہوئی، مجھے یہ اندیشہ ہے، یا رسول اللہ! جس طرح وہ لالچ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے، کہیں اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ ہو جائیں، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو ان کی طرف کوئی ایسی چیز بھیج دیں، جو ان کی امداد کر سکے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا، میرا خیال ہے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ بنوفلاں کے باغ کی متعین کھجوریں فلاں عرصے تک ادائیگی کی شرط پر مجھے فروخت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اے یہودی میں تمہیں متعین کھجوریں فلاں، فلاں عرصے تک فروخت کر دوں گا، لیکن میں بنوفلاں کے باغ کا تعین نہیں کروں گا۔ میں نے جواب دیا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ سودا کر لیا۔ میں نے اپنے تھیلے کو کھولا اور اس میں سے 80 مثقال سونا نکال کر آپ کو دے دیا، جو کھجوروں کی متعین تعداد کے عوض میں تھا، جس کی ادائیگی فلاں، فلاں مدت تک تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا اس شخص کو دیا اور کہا: تم جلدی سے ان کے پاس جاؤ اور اس کے ذریعے ان کی مدد کرو۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب متعین مدت پوری ہونے کا وقت قریب آیا، تو ابھی اس میں دو یا تین دن باقی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ کرام بھی تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا کر لی، تو آپ ایک دیوار کے قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کی قمیص کے دامن کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ میرا حق مجھے ادا نہیں کریں گے؟ اللہ کی قسم! آپ یعنی عبدالمطلب کی اولاد کی طرف سے مجھے ٹال مٹول کرنے کا علم نہیں ہے؟ کیونکہ میں آپ لوگوں کے لین دین کو جانتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، تو ان کی آنکھیں غصے سے اُبل رہی تھیں۔ انہوں نے میری طرف گھور کے دیکھا اور بولے: اے اللہ کے دشمن! کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ یہ بات کر رہے ہو؟ جو میں سن رہا ہوں اور یہ طریقہ اختیار کر رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس ذات کی قسم! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، اگر ان کا احترام پیش نظر نہ ہوتا، تو میں اس تلوار کے ذریعے تمہاری گردن اڑا دیتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اور مہربانی کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ” اے عمر! تمہاری طرف سے اس سے مختلف رد عمل سامنے آنے کی زیادہ ضرورت تھی، تم مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کرنے کا کہتے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کا کہتے۔ اے عمر! اسے ساتھ لے جاؤ۔ اس کا حق اسے ادا کر دو اور تم نے جو اسے ڈانٹا ہے، اس کے بدلے میں اسے میں صاع کھجوریں زیادہ دینا۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے، انہوں نے میرا حق ادا کر دیا اور مزید بیس صاع کھجوریں عطا کیں، تو میں نے دریافت کیا: یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نے تمہیں، جو ڈانٹا ہے، اس کی جگہ میں تمہیں یہ اضافی ادائیگی کروں۔ میں نے دریافت کیا: اے عمر! تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: یہودیوں کا بڑا عالم؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ یہودیوں کا بڑا عالم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ بات چیت اور اس طرح کا طرز عمل کیوں کیا؟ میں نے جواب دیا: اے عمر! میں نے اللہ کے رسول کے چہرے میں تمام علامات نبوت دیکھ لی تھیں، جب میں نے آپ کی زیارت کی تھی، صرف دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری کتنی ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا جائے، تو آپ بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں نے ان دونوں کا علم بھی حاصل کر لیا ہے۔ اے عمر! اب میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میںاللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں۔ (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں) اور میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں: میرا نصف مال، حالانکہ یہودیوں میں سے، سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے۔ یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے لئے صدقہ ہے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ کہو کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے لئے ہے، کیونکہ تم ان سب کو پورا نہیں کر سکتے، تو میں نے کہا: ان میں سے بعض لوگوں کے لئے ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا زید نے عرض کی: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے اور پھر غزوہ تبوک کے دوران دشمن کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے انتقال کیا۔اللہ تعالیٰ زید پر رحم کرے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے میں نے ولید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے مجھے یہ تمام روایت محمد بن حمزہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کی ہے۔