کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ امراء کے پاس جانے والے پر اللہ تعالیٰ کا غضب لازم ہوتا ہے جو ان کے سامنے ایسی بات کہتا ہے جس کی اجازت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دی۔
حدیث نمبر: 287
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَهُ جُلُوسًا فِي السُّوقِ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَهُ شَرَفٌ ، فَقَالَ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ لَكَ حَقًّا ، وَإِنَّكَ لَتَدْخُلُ عَلَى هَؤُلاءِ الأُمَرَاءِ ، وَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ ، وَلا يَرَاهَا بَلَغَتْ حَيْثُ بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضَاهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لا يَرَاهَا بَلَغَتْ حَيْثُ بَلَغَتْ ، يَكْتُبُ الِلَّهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ " فَانْظُرْ يَا ابْنَ أَخِي مَا تَقُولُ ، وَمَا تَكَلَّمُ ، فَرُبَّ كَلامٍ كَثِيرٍ قَدْ مَنَعَنِي مَا سَمِعْتُ مِنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ .
محمد بن عمرو بن علقمہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس سے مدینہ منورہ کا رہنے والا ایک صاحب حیثیت شخص گزرا، تو وہ علقمہ بن وقاص نے اس سے کہا: تمہارا ایک حق ہے (کہ میں تمہیں یہ بات بتاؤں) تم ان حکمرانوں کے ہاں آتے جاتے ہو۔ ان سے بات چیت کرتے ہو۔ میں نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بندہ کوئی بات کرتا ہے، اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لئے اس بندے کے بارے میں رضامندی تحریر کر دیتا ہے۔ اور ایک بندہ کوئی بات کہتا ہے، اور اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟ لیکن اس بات کی وجہ سےاللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک کے لئے اس شخص کے بارے میں ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے ۔“ تو اے میرے بھتیجے! تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہتے ہو، اور کیا بات کرتے ہو؟ میں نے جب سے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی ہے، تب سے میں نے (غیر محتاط) باتیں کرنا ترک کر دی ہیں۔