کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ انسان کو امراء کے جھوٹ کی تصدیق کرنے یا ان کے ظلم میں مدد کرنے سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 285
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم لوگ اس وقت نو افراد تھے ہمارے درمیان چھڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہو گا، وہ شخص میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 285
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (279). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط وهو مكرر الحديث (282).