کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کی صحت کو واضح کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 281
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ " .
سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شک تم میں سے کوئی ایک شخصاللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے متعلق کوئی ایک بات کہتا ہے، اس شخص کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، لیکناللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے، اس دن تک کے لئے، اس شخص کے بارے میں رضامندی کو نوٹ کر لیتا ہے، جس دن وہ شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ اور کوئی شخصاللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے: اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی؟ لیکناللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے، اس شخص کے بارے میں، اس دن تک کے لئے، اپنی ناراضگی تحریر کر دیتا ہے، جب وہ شخصاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 281
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.