کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ دنیا میں ائمہ کے سامنے حق بات کہنے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی امید ہے۔
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ : مَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَهُ شَرَفٌ ، وَهُوَ جَالِسٌ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ عَلْقَمَةُ : يَا فُلانُ ، إِنَّ لَكَ حُرْمَةً ، وَإِنَّ لَكَ حَقًّا ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ تَدْخُلُ عَلَى هَؤُلاءِ الأُمَرَاءِ فَتَكَلَّمُ عِنْدَهُمْ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ بِلالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ ، فَيَكْتُبُ الِلَّهِ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ عَلْقَمَةُ : انْظُرْ وَيْحَكَ مَاذَا تَقُولُ ، وَمَاذَا تَكَلَّمُ بِهِ ، فَرُبَّ كَلامٌ قَدْ مَنَعَنِي مَا سَمِعْتُهُ مِنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ .
علقمہ بن وقاص کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ ایک مرتبہ ان کے پاس سے مدینہ منورہ کا رہنے والا ایک شخص گزرا، جو صاحب حیثیت تھا (یا کوئی سرکاری اہلکار تھا) علقمہ اس وقت مدینہ منورہ کے بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ علقمہ نے کہا: اے فلاں! تمہارے کچھ حقوق بھی ہیں اور تمہارے کچھ فرائض بھی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے، تم ان حکمرانوں کے پاس آتے جاتے رہتے ہو، ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” بے شک تم میں سے کوئی ایک شخصاللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے متعلق ایک بات کہتا ہے، اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی، تواللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس دن تک کے لئے اس سے رضا مندی نوٹ کر لیتا ہے، جب وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ اور ایک شخصاللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے متعلق کوئی بات کہتا ہے۔ اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ بات کہاں تک جائے گی، لیکناللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لئے اس شخص کے لئے ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے۔ “ علقمہ نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، تم اس بات کا جائزہ لیا کرو، تم کیا کہتے ہو، اور کس بارے میں کلام کر رہے ہو؟ کیونکہ جب سے میں نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے، میں کئی باتیں بیان نہیں کرتا ہوں۔