کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا میں سچائی پر استقامت کی وجہ سے صادقین میں لکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 272
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا ، وَلا يَزَالُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” آدمی سچ بولتا رہتا ہے، اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور کوئی شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے جھوٹا نوٹ کر لیا جاتا ہے ۔“