کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ روایات تمثیل اور تشبیہ کے الفاظ میں لوگوں کے درمیان عام فہم کے مطابق بیان کی گئیں، بغیر اس کی کیفیت یا اس کی حقیقت کے وجود کے۔
حدیث نمبر: 270
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا تَصَدَّقَ عَبْدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلا يَقَبْلُ الِلَّهِ إِلا طَيِّبًا ، وَلا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلا طَيِّبٌ إِلا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ وَفَصِيلَهُ ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ أَوِ التَّمْرَةَ لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ " يُبَيِّنُ لَكَ أَنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ أُطْلِقَتْ بِأَلْفَاظِ التَّمْثِيلِ دُونَ وُجُودِ حَقَائِقِهَا ، أَوِ الْوُقُوفِ عَلَى كَيْفِيَّتِهَا ، إِذْ لَمْ يَتَهِيَأْ مَعْرِفَةُ الْمُخَاطَبِ بِهَذِهِ الأَشْيَاءِ إِلا بِالأَلْفَاظِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِهَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جب بھی کوئی بندہ حلال کمائی میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے، ویسےاللہ تعالیٰ صرف حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے، اور آسمان کی طرف صرف حلال چیز ہی بلند ہوتی ہے، تو اس کے ساتھ یوں ہوتا ہے، جیسے پروردگار اس صدقے کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اور پھر اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک لقمہ یا ایک کھجور قیامت کے دن جب آئیں گے، تو وہ بڑے پہاڑ کی مانند ہوں گے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” بالکل اسی طرح جس طرح اس نے اس کو رحمن کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے ۔“ یہ بات آپ کے لئے اس بات کو بیان کرتی ہے کہ ان روایات میں مثال کے الفاظ کا استعمال ہوا ہے اس کی حقیقت کا موجود ہونا مراد نہیں ہے یا اس کی کیفیت پر وقوف کرنا مراد نہیں ہے، کیونکہ مخاطب شخص کو ان چیزوں کی معرفت صرف ان الفاظ کے ذریعے ہو سکتی ہے جن پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” بالکل اسی طرح جس طرح اس نے اس کو رحمن کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے ۔“ یہ بات آپ کے لئے اس بات کو بیان کرتی ہے کہ ان روایات میں مثال کے الفاظ کا استعمال ہوا ہے اس کی حقیقت کا موجود ہونا مراد نہیں ہے یا اس کی کیفیت پر وقوف کرنا مراد نہیں ہے، کیونکہ مخاطب شخص کو ان چیزوں کی معرفت صرف ان الفاظ کے ذریعے ہو سکتی ہے جن پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔