کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شرک و نفاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو منافق کے مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ کے وصف کو بیان کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 264
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُصُّ بِمَكَّةَ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ ، إِنْ مَالَتْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ نُطِحَتْ ، وَإِنْ مَالَتْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ نُطِحَتْ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَيْسَ هَكَذَا ، فَغَضِبَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَقَالَ : تَرُدُّ عَلَيَّ ؟ قَالَ : إِنِّي لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلا أَنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ : فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ : فَكَيْفَ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : " بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ " ، قَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ ، وَبَيْنَ الْغَنَمَيْنِ سَوَاءٌ ، قَالَ : كَذَا سَمِعْتُ ، كَذَا سَمِعْتُ ، كَذَا سَمِعْتُ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعَ شَيْئًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْدُهُ ، وَلَمْ يَقْصُرْ دُونَهُ .
ابوجعفر نامی راوی بیان کرتے ہیں: عبید بن عمیر مکہ مکرمہ میں تقریر کر رہے تھے۔ ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام بھی موجود تھے، عبید بن عمیر نے یہ بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان والی بکری کی مانند ہے اگر وہ اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو اسے سینگ مارے جاتے ہیں، اگر وہ اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو اسے سینگ مارے جاتے ہیں۔ “ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا نہیں ہے۔ اس پر عبید بن عمیر غصے میں آ گئے اور بولے: آپ میری بات کو مسترد کر رہے ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری بات کو مسترد نہیں کر رہا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ ارشاد فرمایا اس پر عبداللہ بن صفوان نے دریافت کیا: اے ابوعبدالرحمن! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریوڑ کے لئے) لفظ ” ربیضین “ استعمال کیا تھا (جب کہ تم نے لفظ ” غنمین “ استعمال کیا ہے) تو عبید بن عمیر یا شاید عبدالله بن صفوان بولے: اے ابوعبدالرحمن! ربیضین اور غنمین دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے، تو اسی طرح سنا ہے، میں نے، تو اسی طرح سنا ہے۔ میں نے تو اسی طرح سنا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی لفظ سنتے، تو آپ رضی اللہ عنہ اس میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 264
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» (554): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عتبة بن عبد الله اليحمدي: صدوق، ومن فوقه على شرطهما، وأبو جعفر: هو محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب الباقر.