کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شرک و نفاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو نمازِ عصر کو سورج کے زرد ہونے تک مؤخر کرے اس پر منافق کا نام ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 261
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلاةِ أَوْ ذَكَرَهَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ، تِلْكَ صَلاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا " .
علاء بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ظہر کے بعد حاضر ہوئے، تو وہ عصر کی نماز ادا کر رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ہم نے یا شاید انہوں نے جلدی نماز ادا کرنے کا تذکرہ کیا، تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” یہ منافقین کی نماز ہے یہ منافقین کی نماز ہے۔ “ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی: ” ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے، اور وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے دو سینگوں پر پہنچ جاتا ہے، تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے ۔“ وہ اس نماز میںاللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 261
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.