کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شرک و نفاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف علاء بن عبدالرحمن سے منفرد ہے۔
حدیث نمبر: 260
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِينَ ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ كَنَقَرَاتِ الدِّيكِ لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِنَّ إِلا قَلِيلا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کیا میں تمہیں منافقین کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو ادا نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شیطان کے سینگ تک پہنچ جاتا ہے، تو وہ مرغ کی طرح ٹھونگے مارتا ہے۔ وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 260
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م نحوه - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد وهو الليثي.