کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: شرک و نفاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف عبداللہ بن مرہ سے منفرد ہے۔
حدیث نمبر: 255
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعُ خِلالٍ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا : مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” چار خصلتیں جس شخص میں موجود ہوں گی وہ خالص منافق ہو گا۔ وہ شخص جب بات کرے، تو جھوٹ بولے: جب وعدہ کرے، تو اس کی خلاف ورزی کرے۔ جب عہد کرے، تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑا کرے، تو بدزبانی کا مظاہرہ کرے اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت موجود ہو گی، اس میں نفاق کی خصلت موجود ہو گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 255
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق، وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الربيع: هو سليمان بن داود العتكي الزهراني، وجرير: هو ابن عبد الحميد الضبي.
حدیث نمبر: 256
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 256
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ عن جابر، والمحفوظ: عن ابن عمرو، وهو الذي قبله*. * قال الشيخ: وغفل المعلِّقُ هنا في «طبعة المؤسسة» (1/ 490) - كعادته في مثل هذه الدقائق -، فقال: «إسناده صحيح على شرط مسلمٍ»! وَكَأَنَّهُ لا يَعرفُ الحديث الشاذّ! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.