کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: شرک و نفاق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ اسلام، شرک کی ضد ہے۔
حدیث نمبر: 252
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقَدْامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، فَيُنَادَى : إِنَّ الْجَنَّةَ لا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَيْ رَبِّ ، أَبِي ، قَالَ : فَيَتَحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ ، فَيَتْرُكُهُ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيَمُ ، وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کرنا چاہے گا، تو پکار کر یہ کہا: جائے گا: بے شک کوئی مشرک جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ بے شکاللہ تعالیٰ نے جنت کو ہر مشرک کے لئے حرام قرار دیا ہے، تو وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! یہ میرا باپ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو اس کا باپ انتہائی بدصورت اور انتہائی بدبودار ہو جائے گا، تو وہ شخص اسے چھوڑ دے گا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ سمجھتے تھے: یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ الفاظ استعمال نہیں کئے۔ (جو اس روایت میں پہلے ذکر کر دیئے گئے ہیں)