کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مومنین کی صفات کا بیان - اس درخت کے وصف کی خبر کا ذکر جس سے مسلمان کو تشبیہ دی گئی۔
حدیث نمبر: 244
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أُتِيَ بِجُمَّارٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ بَرَكَتُهَا كَالْمُسْلِمِ " ، قَالَ : فَأُرِيتُ أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ ، فَأَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ ، وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ ، فَسَكَتُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ” جمار “ (کھجور کے درخت کا گوند) لایا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک درخت ایسا ہے، جس کی برکت مسلمان کی مانند ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو گا۔ پھر میں نے حاضرین کا جائزہ لیا، تو میں وہاں دس آدمیوں میں سے دسواں فرد تھا، اور میں وہاں سب سے کم سن تھا۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 244
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
حدیث نمبر: 245
أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لأَصْحَابِهِ : " أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ " ، قَالَ : فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَذَاكَرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رَوْعِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَ ، فَأَرَى أَسْنَانًا مِنَ الْقَوْمِ ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَلَمْ يَكْشِفُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: مجھے ایسے درخت کے بارے میں بتاؤ! جس کی مثال بندہ مومن کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ جنگلات کے مختلف درختوں کے بارے میں بات چیت کرنے لگے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ذہن میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو سکتا ہے۔ پہلے میں یہ بات کہنے لگا، لیکن جب میں نے حاضرین کی عمر کا جائزہ لیا، تو مجھے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی، کوئی بھی شخص اس سوال کا جواب نہیں دے سکا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 245
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو كامل الجحدري: هو فضيل بن حسين، وأبو الخليل: هو صالح بن أبي مريم.