کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مومنین کی صفات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو اللہ جل وعلا کے لیے کسی قوم سے محبت رکھے اسے ایمان کی مٹھاس نصیب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 237
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاوَةَ الإِيمَانِ : مَنْ كَانَ الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَالرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لا يُحِبُّهُمْ إِلا فِي اللَّهِ ، وَالرَّجُلُ إِنْ قُذِفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین چیزیں ایسی ہیں، جو کسی شخص میں ہوں گی، تو وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا۔ وہ شخص کہ اللہ اور اس کا رسول، اس کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔ ایک وہ شخص جو کسی قوم کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لئے ان لوگوں سے محبت رکھتا ہو۔ اور ایک وہ شخص جسے آگ میں ڈالا جانا، اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ دوبارہ یہودی یا عیسائی ہو جائے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 237
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقة اليسرة» (198)، «الروض النضير» (52): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
حدیث نمبر: 238
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاوَةَ الإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لا يُحِبُّهُ إِلا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُوقَدْ لَهُ نَارٌ فَيُقْذَفَ فِيهَا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین خصوصیات جس شخص میں ہوں گی، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا۔ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، اس کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔ (دوسری) یہ کہ وہ کسی شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ صرف اللہ کے لئے اس سے محبت رکھتا ہو۔ اور (تیسری) یہ کہ وہ کفر کی طرف واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے، جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ آگ جلا کر اسے اس آگ میں ڈال دیا جائے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 238
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر المذكور: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، عبد الوهّاب هو ابن عبد المجيد الثقفي، ثقة، تغير قبل موته بثلاث سنين، لكنه لم يحدث في زمن التغيير، إذ حجب الناس عنه، كما ذكره العقيلي في "الضعفاء" 3/ 75، ولم ينفرد به كما في الحديث السابق.