کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے اس بندے کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
حدیث نمبر: 226
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ لَقِيتَنِي بِمِثْلِ الأَرْضِ خَطَايَا لا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا ، لَقِيتُكَ بِمِلْءِ الأَرْضِ مَغْفِرَةً " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! اگر تم زمین جتنی خطائیں لے کر میری بارگاہ میں حاضر ہو، لیکن تم کسی کو میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراتے ہو، تو میں زمین جتنی مغفرت کے ہمراہ تم سے ملاقات کروں گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 226
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (581): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط شريك: هو ابنُ عبد الله النخعي الكوفي، سيّئ الحفظ، لكن تابعه أبو معاوية ووكيع وعلي بن مسهر كما سيرد، وباقي رجال الإسناد ثقات، فالحديث صحيح.