کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے جس بندے کو چاہے، اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اگر وہ اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت دے۔
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلا ، كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : أَتُنْكِرُ شَيْئًا مِنْ هَذَا ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ فَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : أَفَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ ؟ فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ وَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : بَلَى ، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً ، وَإِنَّهُ لا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ ، فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَقُولُ : احْضُرْ وَزْنَكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاتِ ؟ فَيَقُولُ : إِنَّكَ لا تُظْلَمُ ، قَالَ : فَتُوضَعُ السِّجِلاتُ فِي كِفَّةٍ ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ ، فَطَاشَتَ السِّجِلاتُ ، وَثَقُلَتَ الْبِطَاقَةُ ، قَالَ : فَلا يَثْقُلُ اسْمَ اللَّهِ شَيْءٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شکاللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق میں سے الگ کرے گا، پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھول دے گا۔ ان میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے۔ پھر ارشاد فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا نوٹ کرنے والے محافظ فرشتوں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں۔ اے میرے پروردگار!اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے یا نیکی ہے؟ تو وہ شخص مبہوت ہو جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! جی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جی ہاں! تمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے، اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس شخص کے سامنے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا، جس میں یہ تحریر ہو گا۔ ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میزان کے پاس آ جاؤ، وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا، تو رجسٹروں والا پلڑا اوپر چلا جائے گا اور کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ تواللہ تعالیٰ فرمائے گا (یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی یا شاید کسی راوی کے یہ الفاظ ہیں) ”اللہ تعالیٰ کے اسم سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہے ۔“