کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قولِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «إلا حجبتاه عن النار» پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَيَدْخُلُ أَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا : انْظُرُوا مَنَ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ الإِيمَانِ فَأَخْرِجُوهُ " ، قَالَ : " فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا حُمَمًا بَعْدَمَا امْتَحَشُوا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے، اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم ان لوگوں کا جائزہ لو جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان تمہیں مل جائے اسے (جہنم میں سے) نکال دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ لوگ جہنم سے یوں نکلیں گے کہ وہ جلنے کے بعد کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں نہر حیات میں ڈالا جائے گا، تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے کنارے پر دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا نہیں ہے، وہ کس طرح زرد رنگ کا ہوتا ہے، اور ادھر ادھر لہرا رہا ہوتا ہے؟
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (842)، ومضى نحوه (182): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. الربيع بن سليمان: ثقة، ومن فوقه رجال الشيخين.