کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - انسان کا خون اور مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ہر اُس چیز کو مانے جو آپ اللہ جل وعلا کی طرف سے لے کر آئے۔
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” مجھے اس بات کا حق دیا گیا ہے، میں ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ یہ اعتراف نہیں کر لیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ لوگ مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان نہیں لے آتے، جب وہ ایسا کریں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور ان لوگوں کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 220
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (174): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم