کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ انسان کا جان و مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اللہ کا اقرار کرے اور اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دے۔
حدیث نمبر: 218
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلا بِحَقِّهِ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَأَنْزَلَ الِلَّهِ فِي كِتَابِهِ ، فَذَكَرَ قَوْمًا اسْتَكْبَرُوا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ سورة الصافات آية 35 ، وَقَالَ : إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى سورة الفتح آية 26 ، وَهِيَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَمُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " ، اسْتَكْبَرَ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جو شخص یہ کہہ دے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ اپنی جان اور اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لے گا، البتہ اس کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اس شخص کا حساباللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا ۔“ تواللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں آیت نازل کی۔اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم کا تذکرہ کیا جنہوں نے تکبر اختیار کیااللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” بے شک یہ وہ لوگ ہیں، جب ان سے یہ کہا: جائے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو یہ لوگ تکبر کرتے ہیں۔ “اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ” جن لوگوں کے دلوں میں کفر تھا، جب انہوں نے وہ ہٹ دھرمی اختیار کی جو زمانہ جاہلیت کی تھی تواللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینت نازل کی اور انہیں تقوی کے کلمے پر لازم کر دیا ۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) یہاں تقویٰ کے کلمے سے مراد یہ کہنا ہے،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ مشرکین نے حدیبیہ کے موقع پر اس بارے میں تکبر کا اظہار کیا تھا۔