کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص امتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے شرک کیے بغیر مرے، اس کے لیے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 211
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَنَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قَدْامَهَا أَحَدٌ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمُعَاذْ بْنُ جَبَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالا : لا نَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي ، فَمِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى ، قَالَ : فَلَبِثْنَا يَسِيرًا ، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ أَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ ، فَيُخَيِّرُنِي بِأَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، وَإِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ ؟ قَالَ : " فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي " ، قَالَ : فَلَمَّا رَكِبُوا ، قَالَ : " فَإِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي " .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا، ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی بازو کو بچھا لیا (یعنی آرام کرنے لگا) راوی کہتے ہیں: رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے سامنے کوئی موجود نہیں ہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لئے نکلا تو مجھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے نظر آئے۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ ان دونوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں معلوم، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے۔ وہ چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی۔ راوی کہتے ہیں: ہم کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار کی طرف سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے میری اُمت کے نصف حصے کے حساب اور شفاعت کے بغیر جنت میں داخل ہو جانے (یا مطلق طور پر مجھے) شفاعت کرنے کے بارے میں اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر، اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ گزارش کرتے ہیں، آپ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کر لیں، جو آپ کی شفاعت کے اہل ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میری شفاعت کے اہل ہو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میں یہاں موجود تمام لوگوں کو اس بات کا گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت میری اُمت کے ہر فرد کو نصیب ہو گی، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ سمجھتا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 211
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (818)، وسيأتي بأتم منه (6436 و 7163). تنبيه!! رقم (6436) = (6470) من «طبعة المؤسسة». رقم (7163) = (7207) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير عبد الواحد بن غياث، وهو صدوق. وأبو المليح: هو ابن أسامة بن عمير، أو عامر بن عمير بن حنيف بن ناجية الهذلي: اسمه عامر، وقيل: زيد، وقيل: زياد، وأبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.