کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - ایک اور خبر کا ذکر جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عرب اپنی زبان میں کسی چیز کے ایک حصے کو بھی اُس پوری چیز کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 189
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ نُعْتِقُ عَنْهَا رَقَبَةً ، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ ، قَالَ : " ادْعُ بِهَا " ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَ : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " قَالَتِ : الِلَّهِ ، قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری والدہ نے یہ وصیت کی تھی کہ ہم ان کی طرف سے ایک گردن آزاد کر دیں میرے پاس ایک سیاہ فام کنیز ہے۔ کیا میں اسے آزاد کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بلاؤ! وہ کنیز آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارا پروردگار کون ہے؟ اس نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ کے رسول۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو۔