کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ کسی چیز سے نام کا انکار، حقیقت میں اس کے کمال کے انکار کے معنی میں ہے، نہ کہ ظاہر پر حکم لگانے کے لیے۔
حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنُ هِشَامٍ ، كلهم يحدثون ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ " فَقُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَلاغُ ، وَعَلَيْنَا التَّسْلِيمُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا شخص چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا، ڈاکہ ڈالنے والا شخص جو کسی کی قیمتی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے، جب کہ مسلمان اس کی طرف دیکھ رہے ہوں، تو وہ ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں رہتا ۔“
راوی کہتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تبلیغ کرنا لازم تھا، اور ہم پر اسے تسلیم کرنا لازم ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 186
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإيمان» لابن أبي شيبة (ص13). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما لولا عنعنة الوليد بن مسلم، لكنه توبع.