کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کو نکالو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي رَجَاءِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهِيَرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ ، يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، قَامَتِ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا ، فَيُقَالُ : اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يُقَالُ : اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا كَثِيرًا ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا : أَنَا الآنَ أُخْرِجُ بِنِعْمَتِي وَبِرَحْمَتِي ، فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُمْ ، قَدْ امْتَحَشُوا وَصَارُوا فَحْمًا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهْرٍ ، أَوْ فِي نَهْرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ ، فَتَسْقُطُ مُحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ ذَلِكَ النَّهَرِ ، فَيَعُودُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ ، فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ : عُتَقَاءُ اللَّهِ ، وَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ " الثَّعَارِيرُ : الْقِثَّاءُ الصِّغَارُ ، قَالَهُ الشَّيْخُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب اہل جنت اور اہل جہنم کو ایک دوسرے سے نمایاں کر دیا جائے گا اور اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو رسول کھڑے ہوں گے اور وہ شفاعت کریں گے۔ تو یہ کہا: جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس شخص کے بارے میں تمہیں یہ لگتا ہے، اس کے دل میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہے، تم اسے (جہنم سے نکال دو) تو وہ لوگ بہت زیادہ لوگوں کو نکال دیں گے، پھر یہ کہا: جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس کے بارے میں تمہیں یہ پتہ چلتا ہے، اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے، تو تم اسے بھی نکال دو، تو وہ لوگ بہت سے لوگوں کو نکال دیں گے۔ (پھر)اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں اپنی نعمت اور رحمت کی وجہ سے (لوگوں کو جہنم سے) نکالوں گا۔ تو ان رسولوں نے جتنے لوگوں کو نکالا تھا،اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا زیادہ لوگوں کو جہنم سے نکالے گا۔ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں نہر میں ڈالا جائے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا، تو ان کا جلا ہوا حصہ اس نہر کے کنارے پر گر پڑے گا اور وہ لوگ ” ثعاریر “ کی مانند سفید ہو جائیں گے، ان کی گردنوں پر یہ لکھا جائے گا: یہاللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کئے ہوئے ہیں اور (جنت میں) ان کا نام جہنمی ہو گا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” ثعاریر “ ایک چھوٹی قسم کا پھول ہوتا ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 183
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «ظلال الجنة» (2/ 404 / 841)، «الصحيحة» (3054). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط يحيى بن أبي رجاء: ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 264، وكناه أبا محمد، وقال: يروي عن زهير بن معاوية، وعتاب بن بشير، وأهل بلده، حدثنا عنه أبو عروبة، مات سنة أربعين ومئتين، وباقي رجاله ثقات إلا أن أبا الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس - مدلس وقد عنعن.