کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو باطل کرتی ہے کہ یہ حدیث مکہ میں اسلام کے ابتدائی دور میں احکام نازل ہونے سے پہلے تھی۔
حدیث نمبر: 170
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، بِالرَّبَذَةِ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَقَبْلُنَا أُحُدٌ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا أُمْسِي وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلا أَصْرِفُهُ لِدَيْنٍ " ، ثُمَّ مَشَى ، وَمَشَيْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الأَكْثَرِينَ هُمُ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، لا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَقُلْتُ : أَنْطَلِقُ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي فَلَبِثْتُ حَتَّى جَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُدْرِكَكَ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي ، فَقَالَ : " ذَلِكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ : مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ " ، أَخْبَرْنَاهُ الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
زید بن وہیب بیان کرتے ہیں: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ربذہ کے مقام پر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی پتھریلی زمین پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چلتا ہوا جا رہا تھا۔ ہمارے سامنے ” اُحد “ پہاڑ آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو، اور پھر شام کے وقت ان میں سے ایک بھی دینار میرے پاس باقی رہے۔ ماسوائے اس کے، جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لئے رکھا ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ آپ کے ہمراہ میں بھی چلتا رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن (اجر و ثواب کے اعتبار سے) قلت والے ہوں گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! تم یہیں رہنا جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر میں نے ایک آواز سنی میں نے سوچا میں آگے جاتا ہوں۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا، جو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا، تو میں وہاں ٹھہرا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آواز سنی تھی۔ پہلے میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ کے پاس آتا ہوں، پھر مجھے آپ کا فرمان یاد آ گیا۔ جو آپ نے مجھ سے فرمایا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، جو میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص اس حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 170
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني [تنبيه!! ] هذا الحديث فصله الشيخ الألباني جزئين لوجود إسنادين به. الجزء الأول: 170 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ... «وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ» وقال عن هذا الجزء: صحيح - المصدر نفسه، «تخريج فقه السيرة» (446): ق. الجزء الثاني: [170/*] أَخْبَرْنَاهُ الْقَطَّانُ فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا ... عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وقال عن هذا الجزء: لم يحكم الشيخ على هذا الجزء. [تنبيه آخر] في «طبعة باوزير» «آتِيَكَ» بدلا من «أُدْرِكَكَ» وكتب الشيخ تعليق على هذه اللفظه فقال: [في الأصل «أتركك»]. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط [تنبيه!! ] هذا الحديث حكم عليه الشيخ شعيب بحكمين لوجود إسنادين به. الإسناد الأول: أخبرنا الحسين بن عبد الله بن يزيد القطان، بالرقة، ... وإن زنى، وإن سرق». الأسناد الثاني: أخبرناه القطان في عقبه، حدثنا هشام بن عمار ... بمثله. وفي كِلا الموضعين قال الشيخ: إسناده صحيح على شرط البخاري. - مدخل بيانات الشاملة -.