کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف سہیل بن ابی صالح نے منفرد طور پر بیان کی
حدیث نمبر: 167
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَدْامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : اخْتَصَرَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ هَذَا الْخَبَرَ ، فَلَمْ يَذْكُرْ ذِكْرَ الأَعْلَى وَالأَدْنَى مِنَ الشُّعَبِ ، وَاقْتَصَرَ عَلَى ذِكْرِ السِّتِّينَ دُونَ السَّبْعِينَ ، وَالْخَبَرُ فِي بِضْعٍ وَسَبْعِينَ خَبَرٌ مُتَقَصًّى صَحِيحٌ لا ارْتِيَابَ فِي ثُبُوتِهِ ، وَخَبَرُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ خَبَرٌ مُخْتَصَرٌ غَيْرُ مُتَقَصًّى ، وَأَمَّا الْبِضْعُ ، فَهُوَ اسْمٌ يَقَعُ عَلَى أَحَدِ أَجْزَاءِ الأَعْدَادِ ، لأَنَّ الْحِسَابَ بِنَاؤُهُ عَلَى ثَلاثَةِ أَشْيَاءَ : عَلَى الأَعْدَادِ ، وَالْفُصُولِ ، وَالتَّرْكِيبِ ، فَالأَعْدَادُ مِنَ الْوَاحِدِ إِلَى التِّسْعَةِ ، وَالْفُصُولُ هِيَ الْعَشَرَاتُ وَالْمِئُونُ وَالأُلُوفُ ، وَالتَّرْكِيبُ مَا عَدَا مَا ذَكَرْنَا ، وَقَدْ تَتَبَّعْتُ مَعْنَى الْخَبَرِ مُدَّةً ، وَذَلِكَ أَنَّ مَذْهَبَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَكَلَّمْ قَطُّ إِلا بِفَائِدَةٍ ، وَلا مِنْ سُنَنِهِ شَيْءٌ لا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ ، فَجَعَلْتُ أَعُدُّ الطَّاعَاتِ مِنَ الإِيمَانِ ، فَهِيَ تَزِيدُ عَلَى هَذَا الْعَدَدِ شَيْئًا كَثِيرًا ، فَرَجَعْتُ إِلَى السُّنَنِ ، فَعَدَدْتُ كُلَّ طَاعَةٍ عَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِيمَانِ ، فَهِيَ تَنْقُصُ مِنَ الْبِضْعِ وَالسَّبْعِينَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ مِنْ كَلامِ رَبِّنَا ، وَتَلَوْتُهُ آيَةً آيَةً بِالتَّدَبُّرِ ، وَعَدَدْتُ كُلَّ طَاعَةٍ عَدَّهَا الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنَ الإِيمَانِ ، فَهِيَ تَنْقُصُ عَنِ الْبِضْعِ وَالسَّبْعِينَ ، فَضَمَمْتُ الْكِتَابَ إِلَى السُّنَنِ ، وَأَسْقَطْتُ الْمُعَادَ مِنْهَا ، فَكُلُّ شَيْءٍ عَدَّهُ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا مِنَ الإِيمَانِ فِي كِتَابِهِ ، وَكُلُّ طَاعَةٍ جَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الإِيمَانِ فِي سُنَنِهِ تِسْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً لا يَزِيدُ عَلَيْهَا وَلا يَنْقُصُ مِنْهَا شَيْءٌ ، فَعَلِمْتُ أَنَّ مُرَادَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْخَبَرِ أَنَّ الإِيمَانَ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَنِ ، فَذَكَرْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ بِكَمَالِهَا بِذِكْرِ شُعْبَةَ فِي كِتَابِ وَصْفُ الإِيمَانِ وَشُعَبِهِ بِمَا أَرْجُو أَنَّ فِيهَا الْغَنِيَّةَ لِلْمُتَأَمِّلِ تَأَمَّلَهَا ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ تِكْرَارهَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الإِيمَانَ أَجْزَاءٌ بِشُعَبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً : أَعْلاهَا شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، فَذَكَرَ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ شُعَبِهِ ، هِيَ كُلُّهَا فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي جَمِيعِ الأَحْوَالِ ، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ : وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَالإِيمَانُ بِمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنْ أَجْزَاءِ هَذِهِ الشُّعْبَةِ ، وَاقْتَصَرَ عَلَى ذِكْرِ جُزْءٍ وَاحِدٍ مِنْهَا ، حَيْثُ قَالَ : " أَعْلاهَا شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، فَدَلَّ هَذَا عَلَى أَنَّ سَائِرَ الأَجْزَاءِ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ كُلُّهَا مِنَ الإِيمَانِ ، ثُمَّ عَطَفَ فَقَالَ : " وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ " ، فَذَكَرَ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ شُعْبَةٍ هِيَ نَفْلٌ كُلُّهَا لِلْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الأَوْقَاتِ ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ سَائِرَ الأَجْزَاءِ الَّتِي هِيَ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ وَكُلَّ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الشُّعَبِ الَّتِي هِيَ مِنْ بَيْنِ الْجُزْأَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ فِي هَذَا الْخَبَرِ اللَّذَيْنِ هُمَا مِنْ أَعْلَى الإِيمَانِ وَأَدْنَاهُ كُلُّهُ مِنَ الإِيمَانِ ، وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " ، فَهُوَ لَفْظَةٌ أُطْلِقَتْ عَلَى شَيْءٍ بِكِنَايَةِ سَبَبِهِ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْحَيَاءَ جِبِلَّةٌ فِي الإِنْسَانِ ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُكْثِرُ فِيهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقِلُّ ذَلِكَ فِيهِ ، وَهَذَا دَلِيلٌ صَحِيحٌ عَلَى زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ ، لأَنَّ النَّاسَ لَيْسُوا كُلُّهُمْ عَلَى مَرْتَبَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحَيَاءِ ، فَلَمَّا اسْتَحَالَ اسْتِوَاؤُهُمْ عَلَى مَرْتَبَةٍ وَاحِدَةٍ فِيهِ ، صَحَّ أَنَّ مَنْ وُجِدَ فِيهِ أَكْثَرُ ، كَانَ إِيمَانُهُ أَزِيدَ ، وَمَنْ وُجِدَ فِيهِ مِنْهُ أَقَلُّ ، كَانَ إِيمَانُهُ أَنْقَصَ ، وَالْحَيَاءُ فِي نَفْسِهِ : هُوَ الشَّيْءُ الْحَائِلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَبَيْنَ مَا يُبَاعِدُهُ مِنْ رَبِّهِ مِنَ الْمَحْظُورَاتِ ، فَكَأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ تَرْكَ الْمَحْظُورَاتِ شُعْبَةً مِنَ الإِيمَانِ بِإِطْلاقِ اسْمِ الْحَيَاءِ عَلَيْهِ ، عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ .
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایمان کے ساٹھ سے زیادہ شعبے ہیں اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سلیمان بن بلال نے اس روایت کو مختصر کیا ہے انہوں نے سب سے بلند اور سب سے نیچے والے شعبے کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے ستر کی بجائے صرف ساٹھ کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے، جبکہ روایت میں ستر اور کچھ شعبے بھی منقول ہے۔ اور یہ ایسی روایت ہے، جو تفصیلی ہے، اور صحیح ہے اس کے ثبوت میں کوئی شک نہیں ہے۔ سلیمان بن بلال کی نقل کردہ روایت مختصر ہے، اور تفصیلی نہیں ہے جہاں تک لفظ ” بضع “ اور کچھ) کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا اسم ہے، جو اعداد کے اجزاء میں سے کسی ایک پر واقع ہوتا ہے، کیونکہ حساب کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ اعداد پر، فصول پر اور ترکیب پر۔ جہاں تک اعداد کا تعلق ہے، تو وہ ایک سے لے کر نو تک ہوتے ہیں جہاں تک فصول کا تعلق ہے، تو وہ دہائیاں، سینکڑے اور ہزار ہوتے ہیں۔ جہاں تک ترکیب کا تعلق ہے، تو وہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے (وہ ترکیب ہے) میں ایک طویل عرصے تک اس روایت کے مفہوم کی تحقیق کرتا رہا اس کی وجہ یہ ہے: ہمارا مذہب یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی بات کی ہے وہ کسی فائدے کی وجہ سے کی ہو گی۔ اور آپ کے طریقے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کا مفہوم معلوم نہ ہو، تو میں نے ایمان میں سے نیکیوں کو گننا شروع کیا، تو وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھیں پھر میں نے سنت کی طرف رجوع کیا اور میں نے ان تمام نیکیوں کو گننا شروع کیا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے حصے کے طور پر شمار کیا ہے، تو یہ ستر اور اس کی تعداد سے کچھ کم تھیں۔ پھر میں نے دو جلدوں کے درمیان پروردگار کے کلام کی طرف رجوع کیا میں نے ایک ایک آیت کو غور سے پڑھا اور ہر اس نیکی کو شمار کیا جس کا ذکراللہ تعالیٰ نے ایمان کے حوالے سے کیا ہے، تو وہ بھی ستر اور اس سے کچھ کم تھیں۔ پھر میں نے کتاب کو سنت کے ساتھ ملایا اور ان میں سے تکرار کے ساتھ آنے والی چیزوں کو ساقط کر دیا، تو ہر وہ چیز جس کواللہ تعالیٰ نے ایمان کا حصہ اپنی کتاب میں شمار کیا ہے۔ اور ہر وہ نیکی جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا حصہ اپنی سنت میں قرار دیا ہے وہ 19 شعبے تھے۔ نہ اس سے زیادہ تھے نہ اس سے کم تھے۔ تو مجھے پتہ چل گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت میں مراد یہ ہے: ایمان کے ستر اور کچھ شعبے کتاب و سنت میں منقول ہیں، تو میں نے یہ مسئلہ مکمل طور پر ایمان کے شعبوں کے تذکرے کے ہمراہ کتاب ایمان کی صفت اور اس کے شعبے میں ذکر کر دیا ہے۔ مجھے یہ امید ہے کہ اس میں غور و فکر کرنیوالے شخص کے لئے کفایت ہو جائے گی اور اب مجھے اس بحث کو یہاں دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کی دلیل کہ ایمان کے شعبوں کے حوالے سے اجزاء ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے، جو عبداللہ بن دینار کے حوالے سے منقول روایت میں ہے۔ ” ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہوتے ہیں، جن میں سب سے بلند اس بات کی گواہی دینا ہے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے شعبوں کے اجزاء میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے، جو سارے کا سارا تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، یا فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر یا جنت پر یا جہنم پر اور اس جیسی دیگر چیزوں پر ایمان رکھنا اس شعبے کے اجزاء میں سے ایک ہے۔ بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے صرف ایک جز پر اکتفا کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے: اس کا سب سے بلند تر شعبہ ” اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اجزاء: اس شعبے سے تعلق رکھتے ہے یہ تمام کے تمام ایمان کا حصہ ہیں پھر آپ نے عطف کیا اور لفظ ” واؤ “ استعمال کیا اور فرمایا: اس میں سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شعبوں میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے، جو نفل ہے، اور یہ تمام اوقات میں مخاطب لوگوں کے لئے نفل کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ تمام اجزاء، جو اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان دو ذکر شدہ اجزاء کے درمیان موجود شعبوں کے تمام اجزاء میں سے ہر ایک جز۔ اس کا تذکرہ ان دو روایات میں ہے، جو ایمان کا بلند تر مرتبہ اور کمترین مرتبہ ہیں۔ یہ سب کے سب ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے۔ ” حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے ۔“ تو یہ ایسے الفاظ ہیں، جن کا اطلاق کسی چیز پر اس کے سبب کے کنائے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ جیسا ایک جبلت ہے، جو انسان میں موجود ہوتی ہے، تو کچھ لوگ ایسے ہیں، جن میں یہ زیادہ ہوتی ہے، اور کچھ میں یہ کم ہوتی ہے، تو یہ اس چیز کی صحیح دلیل ہے کہ ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے، اور اس میں کمی بھی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: تمام لوگ حیا کے اعتبار سے ایک ہی مرتبے کے نہیں ہوتے ہیں، تو جب ایمان کے ایک مرتبے کے بارے میں ان لوگوں کا برابر ہونا ناممکن ہے، تو یہ بات درست ہو گی کہ جس میں یہ زیادہ پائی جائے گی اس کا ایمان زیادہ ہو گا، اور جس میں یہ کم پائی جائیگی اس کا ایمان کم ہو گا۔ تو اس کا ایمان ناقص ہو گا، اور حیا اپنے وجود کے اعتبار سے ایک ایسی چیز ہے، جو آدمی اور اس چیز کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے جو چیز آدمی کو اس کے پروردگار سے دور کرتی ہے، اور ممنوعہ چیزوں سے تعلق رکھتی ہے، تو گویا کہ اللہ کے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا ہے، اور اس کے لئے آپ نے لفظ حیا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات ذکر کی ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سلیمان بن بلال نے اس روایت کو مختصر کیا ہے انہوں نے سب سے بلند اور سب سے نیچے والے شعبے کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے ستر کی بجائے صرف ساٹھ کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے، جبکہ روایت میں ستر اور کچھ شعبے بھی منقول ہے۔ اور یہ ایسی روایت ہے، جو تفصیلی ہے، اور صحیح ہے اس کے ثبوت میں کوئی شک نہیں ہے۔ سلیمان بن بلال کی نقل کردہ روایت مختصر ہے، اور تفصیلی نہیں ہے جہاں تک لفظ ” بضع “ اور کچھ) کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا اسم ہے، جو اعداد کے اجزاء میں سے کسی ایک پر واقع ہوتا ہے، کیونکہ حساب کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ اعداد پر، فصول پر اور ترکیب پر۔ جہاں تک اعداد کا تعلق ہے، تو وہ ایک سے لے کر نو تک ہوتے ہیں جہاں تک فصول کا تعلق ہے، تو وہ دہائیاں، سینکڑے اور ہزار ہوتے ہیں۔ جہاں تک ترکیب کا تعلق ہے، تو وہ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے (وہ ترکیب ہے) میں ایک طویل عرصے تک اس روایت کے مفہوم کی تحقیق کرتا رہا اس کی وجہ یہ ہے: ہمارا مذہب یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی بات کی ہے وہ کسی فائدے کی وجہ سے کی ہو گی۔ اور آپ کے طریقے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کا مفہوم معلوم نہ ہو، تو میں نے ایمان میں سے نیکیوں کو گننا شروع کیا، تو وہ اس تعداد سے کہیں زیادہ تھیں پھر میں نے سنت کی طرف رجوع کیا اور میں نے ان تمام نیکیوں کو گننا شروع کیا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے حصے کے طور پر شمار کیا ہے، تو یہ ستر اور اس کی تعداد سے کچھ کم تھیں۔ پھر میں نے دو جلدوں کے درمیان پروردگار کے کلام کی طرف رجوع کیا میں نے ایک ایک آیت کو غور سے پڑھا اور ہر اس نیکی کو شمار کیا جس کا ذکراللہ تعالیٰ نے ایمان کے حوالے سے کیا ہے، تو وہ بھی ستر اور اس سے کچھ کم تھیں۔ پھر میں نے کتاب کو سنت کے ساتھ ملایا اور ان میں سے تکرار کے ساتھ آنے والی چیزوں کو ساقط کر دیا، تو ہر وہ چیز جس کواللہ تعالیٰ نے ایمان کا حصہ اپنی کتاب میں شمار کیا ہے۔ اور ہر وہ نیکی جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا حصہ اپنی سنت میں قرار دیا ہے وہ 19 شعبے تھے۔ نہ اس سے زیادہ تھے نہ اس سے کم تھے۔ تو مجھے پتہ چل گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت میں مراد یہ ہے: ایمان کے ستر اور کچھ شعبے کتاب و سنت میں منقول ہیں، تو میں نے یہ مسئلہ مکمل طور پر ایمان کے شعبوں کے تذکرے کے ہمراہ کتاب ایمان کی صفت اور اس کے شعبے میں ذکر کر دیا ہے۔ مجھے یہ امید ہے کہ اس میں غور و فکر کرنیوالے شخص کے لئے کفایت ہو جائے گی اور اب مجھے اس بحث کو یہاں دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بات کی دلیل کہ ایمان کے شعبوں کے حوالے سے اجزاء ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے، جو عبداللہ بن دینار کے حوالے سے منقول روایت میں ہے۔ ” ایمان کے ستر اور کچھ شعبے ہوتے ہیں، جن میں سب سے بلند اس بات کی گواہی دینا ہے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے شعبوں کے اجزاء میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے، جو سارے کا سارا تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، یا فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر یا جنت پر یا جہنم پر اور اس جیسی دیگر چیزوں پر ایمان رکھنا اس شعبے کے اجزاء میں سے ایک ہے۔ بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے صرف ایک جز پر اکتفا کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے: اس کا سب سے بلند تر شعبہ ” اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اجزاء: اس شعبے سے تعلق رکھتے ہے یہ تمام کے تمام ایمان کا حصہ ہیں پھر آپ نے عطف کیا اور لفظ ” واؤ “ استعمال کیا اور فرمایا: اس میں سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شعبوں میں سے ایک جز کا ذکر کیا ہے، جو نفل ہے، اور یہ تمام اوقات میں مخاطب لوگوں کے لئے نفل کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ تمام اجزاء، جو اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان دو ذکر شدہ اجزاء کے درمیان موجود شعبوں کے تمام اجزاء میں سے ہر ایک جز۔ اس کا تذکرہ ان دو روایات میں ہے، جو ایمان کا بلند تر مرتبہ اور کمترین مرتبہ ہیں۔ یہ سب کے سب ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے۔ ” حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے ۔“ تو یہ ایسے الفاظ ہیں، جن کا اطلاق کسی چیز پر اس کے سبب کے کنائے کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ جیسا ایک جبلت ہے، جو انسان میں موجود ہوتی ہے، تو کچھ لوگ ایسے ہیں، جن میں یہ زیادہ ہوتی ہے، اور کچھ میں یہ کم ہوتی ہے، تو یہ اس چیز کی صحیح دلیل ہے کہ ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے، اور اس میں کمی بھی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: تمام لوگ حیا کے اعتبار سے ایک ہی مرتبے کے نہیں ہوتے ہیں، تو جب ایمان کے ایک مرتبے کے بارے میں ان لوگوں کا برابر ہونا ناممکن ہے، تو یہ بات درست ہو گی کہ جس میں یہ زیادہ پائی جائے گی اس کا ایمان زیادہ ہو گا، اور جس میں یہ کم پائی جائیگی اس کا ایمان کم ہو گا۔ تو اس کا ایمان ناقص ہو گا، اور حیا اپنے وجود کے اعتبار سے ایک ایسی چیز ہے، جو آدمی اور اس چیز کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے جو چیز آدمی کو اس کے پروردگار سے دور کرتی ہے، اور ممنوعہ چیزوں سے تعلق رکھتی ہے، تو گویا کہ اللہ کے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوعہ چیزوں کو ترک کرنے کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا ہے، اور اس کے لئے آپ نے لفظ حیا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات ذکر کی ہے۔