کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - دونوں شہادتوں کے اقرار کرنے والے کے لیے ایمان کے اثبات کا ذکر
حدیث نمبر: 165
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : كَانَتْ لِي غُنَيْمَةٌ تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي فِي قَبْلُ أُحُدٍ ، وَالْجَوَّانِيَّةِ ، فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهَا ذَاتَ يَوْمٍ ، وَقَدْ ذَهَبَ الذِّئْبُ مِنْهَا بِشَاةٍ ، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً ، فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَفَلا أَعْتِقُهَا ؟ قَالَ : " ائْتِنِي بِهَا " ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، فَقَالَ : " أَيْنَ الِلَّهِ ؟ " قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ ، قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعْتِقْهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: میری کچھ بکریاں تھیں جنہیں میری ایک کنیز ” احد “ اور ” جوانیہ “ کی طرف چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں پہنچا، تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بکری کو بھیٹریا لے گیا ہے۔ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آ گیا، جس طرح لوگوں کو غصہ آتا ہے، تو میں نے اسے مکا مارا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: آسمان میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: میں کون ہوں؟ اس نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو۔ وہ مومن ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3161): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، ابن أبي عدي: هو محمد بن إبراهيم.