کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس نے بعض سننے والوں کو جو علم کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کرتے، یہ وہم دیا کہ یہ ان دو خبروں کے خلاف ہے جو ہم نے ذکر کیں
حدیث نمبر: 164
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقَدْادِ بْنِ الأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي ، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ وَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ، أَفَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقْتُلْهُ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا ، أَفَأَقْتُلُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقْتُلْهُ ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلُ أَنْ تَقْتُلَهُ ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلُ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلُ أَنْ تَقْتُلَهُ " يُرِيدُ بِهِ : أَنَّكَ تُقْتَلُ قَوَدًا ، لأَنَّهُ كَانَ قَبْلُ أَنْ أَسْلَمَ حَلالَ الدَّمِ ، وَقَتَلْتَهُ بَعْدَ إِسْلامِهِ صِرْتَ بِحَالَةٍ تُقْتَلُ مِثْلَهُ قَوَدًا بِهِ ، لا أَنَّ قَتْلَ الْمُسْلِمِ يُوجِبُ كُفْرًا يُخْرِجُ مِنَ الْمِلَّةِ ، إِذِ الِلَّهِ قَالَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى سورة البقرة آية 178 ، البقرة .
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسی صورت حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں کسی کافر کے مد مقابل آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے، اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیتا ہے، پھر (میں اس پر غالب آتا ہوں) تو وہ مجھ سے بچنے کے لئے درخت کے پیچھے جاتا ہے، اور کہتا ہے: میںاللہ تعالیٰ کے لئے اسلام قبول کرتا ہوں، تو اس شخص کے یہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے قتل نہ کرو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا تھا، اور اس نے اس ہاتھ کو کاٹنے کے بعد یہ بات کہی ہے۔ کیا میں اس کو قتل کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم اسے قتل کر دیتے ہو، تو وہ تمہاری اس جگہ پر آ جائے گا، جس جگہ تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے۔ اور تم اس کی اس جگہ پر چلے جاؤ گے، جو اس کے کہے ہوئے کلمے سے پہلے اس کا مقام تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” تم اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم اسے قتل کر دیتے ہو، تو وہ تمہاری اس جگہ پر آ جائے گا، جس جگہ تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے۔ “ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے۔ تمہیں قصاص میں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کا خون بہانا جائز تھا، لیکن جب تم نے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے قتل کیا تو تم ایسی حالت میں پہنچ جاؤ گے کہ تمہیں اس کے قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔ اس حدیث سے یہ مراد نہیں ہے: کسی مسلمان کو قتل کرنا ایسے کفر کو واجب کر دیتا ہے جو آدمی کو دین سے خارج کر دے، کیونکہاللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ” اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص پر لازم قرار دیا گیا ہے ۔“