کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جس نے لوگوں کے ایک عالم کو یہ وہم دیا کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے
حدیث نمبر: 163
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رِجَالا ، وَلَمْ يُعْطِ رَجُلا مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ فُلانًا وَفُلانًا ، وَلَمْ تُعْطِ فُلانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ مُسْلِمٌ " قَالَهَا ثَلاثًا ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : نَرَى أَنَّ الإِسْلامَ الْكَلِمَةُ ، وَالإِيمَانَ الْعَمَلُ .
عامر بن سعد بن وقاص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطیات دیئے۔ آپ نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دے دیا ہے، لیکن فلاں شخص کو کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ وہ مومن ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ مومن ہے یا مسلمان ہے؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
زہری کہتے ہیں: ہم یہ سمجھتے ہیں: اسلام سے مراد زبانی طور پر کلمہ پڑھتا ہے، اور ایمان سے مراد عمل کرنا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإيمان» لابن أبي شيبة (ص 11 و 12)، «صحيح سنن أبي داود» (4683): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجاله رجال الشيخين غير ابن أبي السري، فإنه كثير الأوهام، وقد توبع.