کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خطاب عمومی طور پر بیان کیا گیا لیکن اس کا مقصد خصوصی ہے، یعنی اس سے بعض لوگوں کا ارادہ ہے نہ کہ سب کا
حدیث نمبر: 162
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ ، فَحُلِبَتْ ، فَشَرِبَ حِلابَهَا ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلابَهَا ، حَتَّى شَرِبَ حِلابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ ، فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلابَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى ، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرَ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک کافر شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان بنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا، تو دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا۔ اس نے اس کا دودھ بھی پی لیا یہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا۔ پھر صبح کے وقت اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہ لیا گیا۔ اس نے اس کا دودھ پی لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے لئے دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا، تو اسے ختم نہیں کر سکا۔ (تو اس موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بے شک مومن ایک آنت میں پیتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.