کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام اور ایمان ایک ہی معنی کے دو نام ہیں جو اقوال اور افعال دونوں کو شامل ہیں
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لا آتِيَكَ ، فَمَا الَّذِي بَعَثَكَ بِهِ ؟ قَالَ : " الإِسْلامُ " ، قَالَ : وَمَا الإِسْلامُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ تُسْلِمَ قَلْبَكَ لِلَّهِ ، وَأَنْ تُوَجِّهَ وَجْهَكَ لِلَّهِ ، وَأَنْ تُصَلِّيَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ ، لا يَقَبْلُ الِلَّهِ مِنْ عَبْدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلامِهِ " .
حکیم بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، جب میں اپنی انگلیوں کی تعداد میں یہ قسم اٹھا چکا تھا کہ میں آپ کے پاس کبھی نہیں آؤں گا۔ آپ کو کس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے۔ انہوں نے دریافت کیا: اسلام کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے دل کواللہ تعالیٰ کے لئے جھکا دو اور تم اپنا رُخاللہ تعالیٰ کی طرف کر لو۔ اور تم فرض نماز ادا کرو اور تم فرض زکوۃ ادا کرو۔ یہ دو بھائی ہیں، جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی بھی ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا، جو اسلام قبول کرنے کے بعد شرک کا ارتکاب کرے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 160
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بلفظ «عملاً» مكان: «توبة» - «الصحيحة» (369)، «الإرواء» (5/ 32). * [لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ عَبْدٍ تَوْبَةً] قال الشيخ: كذا في رواية حمَّاد هذه! وكذلك وقع في (المسند) (5/ 2 و3) وغيرِه! وأخشى أن يكون هذا الحَرْفُ من أوهام حمَّاد، وقد كان تغيَّرَ حفظُه في آخره، فقد رواه بهزُ بن حكيم عن أبيه. . . بلفظ: (عملاً). ولم يتنبّه لهذا الفرق بين الروايتين: المعلِّق على (موارد الظمآن) (1/ 130 - 131)! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. وأبو قَزْعة هو سويد بن حُجَيْر البصري، ومعاوية هو ابن حَيْدة بن معاوية بن كعب القشيري، صحأبي نزل البصرة، ومات بخراسان، وهو جد بهز بن حكيم.