کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایمان کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خبر میں جو «واو» ہے وہ وصل کے لیے نہیں بلکہ «ثم» کے معنی میں ہے۔
حدیث نمبر: 153
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الإِيمَانُ بِاللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: پھر ” مبرور حج ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 153
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن النسائي» (2461): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط ابن أبي السري: هو محمد بن المتوكل العسقلاني، ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 88، وقال: كان من الحفاظ، وفي "التقريب": صدوق، عارف، له أوهام كثيرة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله على شرطهما.