کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تکلیف کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ دل میں آنے والی بات اور اس کا ذکر کیے بغیر رک جانا برابر ہے، جب تک زبان سے نہ کہا جائے۔
حدیث نمبر: 148
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهِيَلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَحَدَنَا لَيُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ يَعْظُمُ عَلَى أَحَدِنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، قَالَ : " أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ ؟ ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی ایک شخص کو ایسے خیالات آتے ہیں، جنہیں بیان کرنا اس کیلئے بہت بڑی بات ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” کیا تم لوگوں کو یہ صورتحال پیش آتی ہے؟ یہ صریح ایمان ہے ۔“