کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تکلیف کا بیان - شیطانی وسوسوں کے دل میں آنے کے بعد انہیں رد کر دینے اور دل سے ان پر ایمان نہ رکھنے کی اباحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 147
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَحَدَنَا لَيَجِدُ فِي نَفْسِهِ الشَّيْءَ لأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الِلَّهِ أَكْبَرُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: ہم میں سے کسی ایک شخص کو اپنے ذہن میں سے کوئی چیز (یعنی کوئی وسوسہ) محسوس ہوتا ہے، تو اس کا راکھ ہو جانا، یہ اس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ وہ آدمی اس وسوسے کو بیان کرے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اللہ اکبر! ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 147
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (1/ 296 / 658). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وذر هو ابن عبد الله المرهبي.