کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تکلیف کا بیان - اس بات کی خبر کہ اللہ نے دل میں آنے والی ان باتوں پر گناہ نہیں رکھا جن کا انسان اظہار نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا أَشْيَاءَ مَا نُحِبُّ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَا ، وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ وَجَدْتُمْ ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں اپنے ذہن میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ ہمیں انہیں بیان کرنا پسند نہیں ہے، اگرچہ اس کے عوض میں ہمیں ساری دنیا مل جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ صریح ایمان ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 145
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الظلال» (655). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، محمد بن عمرو: هو ابن علقمة بن وقاص الليثي المدني، حسن الحديث.