کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تکلیف کا بیان - تین قسم کے لوگوں سے برائی لکھنے کا قلم اٹھا لینے کا ذکر۔
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُخْبِرُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَرَ مِنْ مَكَّةَ ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقَبْلُهُ رَكْبٌ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " مَنِ الْقَوْمُ ؟ " قَالُوا : الْمُسْلِمُونَ ، فَمَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالَ : " رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ ، فَرَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفَّةٍ وَأَخَذَتْ بِعَضَلَتِهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " ، قَالَ إِبْرَاهِيَمُ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فَحَجَّ بِأَهْلِهِ أَجْمَعِينَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے واپس تشریف لائے جب آپ ” روحاء “ کے مقام پر پہنچے تو کچھ سوار آپ کے سامنے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہم مسلمان ہیں۔ آپ لوگ کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں) اللہ کا رسول ہوں، تو ان میں سے ایک عورت تیزی سے اٹھی اور اس نے اپنے پالان میں سے اپنے بچے کو بلند کیا، اس نے اس بچے کے بازو کو پکڑا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! (کیا اس بچے کا) حج ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور تمہیں بھی (اس کا) اجر ملے گا۔ ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابن منکدر کو سنائی، تو انہوں نے اپنے تمام گھر والوں سمیت حج کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 144
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1525). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.