کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تکلیف کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جس چیز کو اللہ نے نفل بنایا ہو اسے بعد میں فرض کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : قَرَأْنَا عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى رِجَالٌ وَرَاءَهُ بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ ، فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرَهُمْ مِنْهُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةَ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ ، فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الثَّالِثَةِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ ، عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا قُضِيَتْ صَلاةُ الْفَجْرِ ، أَقَبْلُ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ ، قَالَ : " أَمَّا بَعْدَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ، فَتَقْعُدُوا عَنْهَا " . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِقَضَاءِ أَمْرٍ فِيهِ ، يَقُولُ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدْمَ مِنْ ذَنْبِهِ " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رمضان کے مہینے میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر (یعنی مسجد میں) تشریف لائے۔ آپ نے نماز (تراویح) ادا کی کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رمضان کے مہینے میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر (یعنی مسجد میں) تشریف لائے۔ آپ نے نماز (تراویح) ادا کی کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ اگلے دن صبح لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی، تو (اگلے دن) لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے دن بھی تشریف لائے، تو لوگوں نے آپ کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی، تو تیسری رات مسجد میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی، جب چوتھی رات آئی تو پوری مسجد بھر چکی تھی۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف نہیں لائے، آپ) فجر کی نماز ادا کرنے کے لئے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جب فجر کی نماز مکمل ہو گئی، تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا۔ آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی۔ ” امابعد! تمہارا یہاں ٹھہرنا مجھ سے مخفی نہیں تھا، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ یہ تم پر فرض ہو جائے گی اور تم اسے ادا نہیں کر پاؤ گے ۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو رمضان کے مہینے میں نوافل ادا کرنے کی ترغیب کرتے تھے، تاہم آپ انہیں اس بارے میں باقاعدہ کوئی حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ کسی اور یہ بات ارشاد فرماتے تھے: ” جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے، رمضان میں نوافل ادا کرے گا، اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے، تو یہ معاملہ یوں ہی رہا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بھی یہ معاملہ یوں ہی رہا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں بھی ایسے ہی رہا۔ (یعنی اس کے بعد لوگوں نے تراویح کی نماز با جماعت ادا کرنا شروع کی)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 141
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صلاة التراويح»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن. معقل بن عبيد الله، حديثه لا يرقى إلى الصحة.