کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تکلیف کا بیان - اس حالت کا ذکر جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آیت «لا إكراه في الدين» نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ : لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 265 ، قَالَ : كَانَتَ الْمَرْأَةُ مِنَ الأَنْصَارِ لا يَكَادُ يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ ، فَتَحْلِفُ : لَئِنْ عَاشَ لَهَا وَلَدٌ لَتُهَوِّدَنَّهُ ، فَلَمَّا أُجْلِيَتْ بَنُو النَّضِيرِ فِيهُمْ نَاسٌ مِنْ أَبْنَاءِ الأَنْصَارِ ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْنَاؤُنَا ، فَأَنْزَلَ الِلَّهِ هَذِهِ الآيَةَ : لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سورة البقرة آية 265 ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : فَمَنْ شَاءَ لَحِقَ بِهِمْ ، وَمَنْ شَاءَ دَخَلَ فِي الإِسْلامِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ” دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔“ یہ بیان کرتے ہیں: (پہلے یہ رواج تھا) کہ اگر انصار کی کسی عورت کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، تو وہ یہ قسم اٹھایا کرتی تھی: اگر اس کا بچہ زندہ رہ گیا، تو وہ اسے یہودی بنا دے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا، تو ان کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی تھے، جو انصار کی اولاد تھے۔ انصار نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے ان بچوں کا کیا بنے گا؟ تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔“ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں، جس بچے نے چاہا، وہ ان یہودیوں (کے ساتھ) مل گیا اور جس نے چاہا وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔