کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمانا آپ کے اس فرمان «هم منهم» کے بعد تھا۔
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ " ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَوْلادِ الْمُشْرِكِينَ : أَنَقْتُلُهُمْ مَعَهُمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ " ، ثُمَّ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” چراگاه، صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے ۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا: کیا ہم ان لوگوں کو ان کے ساتھ قتل کر دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جی ہاں! یہ ان لوگوں کا حصہ ہیں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا۔