کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ناواقف محدث کو یہ گمان دے سکتا ہے کہ یہ پہلے ذکر کی گئی خبروں کے مخالف ہے۔
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْنَاهُ مِنِ الزُّهْرِيِّ ، عَودًا وَبَدْءًا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِيَ ، قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ " وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ ، قَالَ : " هُمْ مِنْهُمْ " . قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لا حِمَى إِلا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت ” ابواء “ یا شاید ” ودان “ کے مقام پر موجود تھا میں نے آپ کی خدمت میں حمار وحشی کا گوشت پیش کیا، تو آپ نے وہ مجھے واپس کر دیا۔ جب آپ نے میرے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” ہم نے تمہیں یہ واپس نہیں کرنا تھا، لیکن ہم احرام (باندھے ہوئے ہیں) ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اس آبادی کے بارے میں دریافت کیا گیا: جہاں رات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے، اور اس حملے میں ان کی خواتین اور بچے مارے جاتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ لوگ ان کا حصہ ہیں ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے۔ ” چراگاہ، صرف اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 136
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2397 و 2705): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.