کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «الله أعلم بما كانوا عاملين» آپ کے فرمان «كل مولود يولد على الفطرة» کے بعد فرمایا گیا۔
حدیث نمبر: 133
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيَمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتَ وَهُوَ صَغِيرٌ ، قَالَ : " الِلَّهِ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں، جس طرح اونٹنیاں صحیح و سالم بچے کو جنم دیتی ہیں۔ کیا تمہیں ان میں سے کوئی کان کٹا ہوا ملتا ہے ۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسے بچے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کمسنی میں انتقال کر جائے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے، جو اس نے عمل کرنے تھے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإيمان / حدیث: 133
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.