کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس گمان کو باطل کرتا ہے کہ اسے صرف حمید بن عبدالرحمن نے روایت کیا۔
حدیث نمبر: 130
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ ، كَمَا تَنْتِجُونَ إِبِلَكُمْ هَذِهِ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ " ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيرَةَ : فَاقْرَءُوا إِنْ شَئْتُمْ : فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30 ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ " مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا : إِنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الآمِرِ ، كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ ، فَأَطْلَقَ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ التَّهَوُّدِ وَالتَّنَصُّرِ وَالتَّمَجُّسِ عَلَى مَنْ أَمَرَ وَلَدَهُ بِشَيْءٍ مِنْهَا بِلَفْظِ الْفِعْلِ ، لا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ هُمُ الَّذِينَ يُهَوِّدُونَ أَوْلادَهُمْ أَوْ يُنَصِّرُونَهُمْ أَوْ يُمَجِّسُونَهُمْ ، دُونَ قَضَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي سَابِقِ عِلْمِهِ فِي عَبِيدِهِ ، عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا ، وَهَذَا كَقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّتِهِ " ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْحَالِقَ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا نَفْسَهُ ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حِينَ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلاةِ فَخُطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً ، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً " ، يُرِيدُ : أَنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ ، لا أَنَّ الْخُطْوَةَ تَحُطُّ الْخَطِيئَةَ ، أَوْ تَرْفَعُ الدَّرَجَةَ ، وَهَذَا كَقَوْلِ النَّاسِ : الأَمِيرُ ضَرَبَ فُلانًا أَلْفَ سَوْطٍ ، يُرِيدُونَ : أَنَّهُ أَمَرَ بِذَلِكَ لا أَنَّهُ فَعَلَ بِنَفْسِهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جس طرح تمہارے اونٹوں کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے، تو کیا تمہیں ان میں سے تمہیں کوئی ایسا نظر آتا ہے، جس کے کان کٹے ہوئے ہوں؟ “ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی: تم لوگ چاہو، تو (اس حدیث کی تائید میں) یہ آیت تلاوت کر سکتے ہو۔ ” یہاللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ فطرت ہے، جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے، اوراللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں “ یہ ان باتوں میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کرتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرتے ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں یہودی بنانے یا عیسائی بنانے یا مجوسی بنانے کے لفظ کا اطلاق اس شخص پر کیا ہے، جو اپنے بچے کو ان میں سے کسی ایک چیز کا حکم دیتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استعمال فعل کے لفظ کے ذریعے کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مشرکین اپنی اولاد کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا عیسائی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنا دیتے ہیں، اور یہاللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے علاوہ ہوتا ہے، جو اس کے اپنے بندوں کے بارے میں علم کے حوالے سے ہے۔ یہ اس کے مطابق ہو گا، جس کا ذکر ہم اپنی کتابوں میں دوسری جگہ کر چکے ہیں۔ اور یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس بیان کے مطابق ہو گا۔ ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈوایا ۔“ اس سے مراد یہ ہے: سر مونڈوانے والے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ فعل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ نہیں کیا تھا۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے۔ ” جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلتا ہے، تو اس کے دونوں قدم ان میں سے ایک برائی کو مٹا دیتا ہے، اور دوسرا درجے کو بلند کرتا ہے ۔“ اس سے مراد یہ ہے:اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ قدم اس برائی کو مٹاتا ہے یا درجے کو بلند کرتا ہے۔ اور یہ لوگوں کے اس مقولے کی طرح ہو گا کہ امیر نے فلاں شخص کو ایک سو کوڑے مارے۔ اس سے مراد یہ ہے: امیر نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس نے خود ایسا کیا تھا۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں “ یہ ان باتوں میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کرتے ہیں جس طرح وہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف کرتے ہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں یہودی بنانے یا عیسائی بنانے یا مجوسی بنانے کے لفظ کا اطلاق اس شخص پر کیا ہے، جو اپنے بچے کو ان میں سے کسی ایک چیز کا حکم دیتا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استعمال فعل کے لفظ کے ذریعے کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ مشرکین اپنی اولاد کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا عیسائی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنا دیتے ہیں، اور یہاللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے علاوہ ہوتا ہے، جو اس کے اپنے بندوں کے بارے میں علم کے حوالے سے ہے۔ یہ اس کے مطابق ہو گا، جس کا ذکر ہم اپنی کتابوں میں دوسری جگہ کر چکے ہیں۔ اور یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس بیان کے مطابق ہو گا۔ ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈوایا ۔“ اس سے مراد یہ ہے: سر مونڈوانے والے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ فعل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ نہیں کیا تھا۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے۔ ” جب کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلتا ہے، تو اس کے دونوں قدم ان میں سے ایک برائی کو مٹا دیتا ہے، اور دوسرا درجے کو بلند کرتا ہے ۔“ اس سے مراد یہ ہے:اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ قدم اس برائی کو مٹاتا ہے یا درجے کو بلند کرتا ہے۔ اور یہ لوگوں کے اس مقولے کی طرح ہو گا کہ امیر نے فلاں شخص کو ایک سو کوڑے مارے۔ اس سے مراد یہ ہے: امیر نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس نے خود ایسا کیا تھا۔