کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس شخص پر رشک جائز ہونے کا بیان جسے اللہ کی کتاب دی گئی اور وہ رات دن اس کے ساتھ قیام کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا حَسَدَ إِلا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ الِلَّهِ الْقُرْآنَ ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ الِلَّهِ مَالا ، فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ ، وَآنَاءَ النَّهَارِ " .
سالم اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جسےاللہ تعالیٰ نے قرآن (کا علم) عطا کیا ہوا، اور وہ دن رات اس کے حوالے سے مصروف رہتا ہو، اور ایک وہ شخص جسےاللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو، اور وہ شخص دن رات اسے خرچ کرتا ہو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العلم / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 221)، «الروض النضير» (897). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. العَدَني: هو محمد بن حيى بن أبي عمر.